سعودی عرب نے
تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی اور اپریل میں پیداوار ایک کروڑ بیرل یومیہ کرنے
کا اعلان کیا اس اقدام سے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بڑا دھچکا پہنچا۔
سعودی عرب کے اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 1991 کی خلیجی جنگ کے
بعد سب سے بڑی کمی واقع ہوئی امریکی خام تیل کی قیمت بھی 28 ڈالر
فی بیرل ہوگئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور روس کے مابین تیل کی قیمتوں پر
جاری اس کشیدگی سے تیل کے بڑے برآمد کنندہ ممالک کو فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی سالانہ درآمدات میں 26 فی صد
حصہ پیٹرولیم مصنوعات کا ہے۔ امریکی مالیاتی ادارے گولڈمین کے مطابق خام مال کی
قیمتوں میں 20 ڈالر فی بیرل تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں پاکستان کی تیل کی
درآمدات میں کی جانے والی ادائیگیوں میں بھی بڑی کمی واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کی کمی
کے حالیہ رجحان سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.8ارب ڈالرتک کی بہتری
آسکتی ہے، جو کہ موجودہ جاری کھاتوں کے خسارہ کا نصف بنتا ہے

good
ReplyDelete