خواتین کے عالمی
دن پر پاکستان کے کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کے تحت آج ریلیاں نکالی جا رہی
ہیں عورت مارچ کے لیے تیار کردہ خصوصی پلے کارڈز اور پوسٹرز کی تصاویر جن کے ذریعے
خواتین اپنے خیالات اور مطالبات کا اظہار کر رہی ہیں
مارچ میں شامل
چند خواتین مذہب اسلام میں خواتین کو دیے گئے حقوق کی جانب توجہ مبذول کرانے کی
کوشش کر رہی ہیں
عورت مارچ میں
خواجہ سرا بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے شریک ہوئے ہیں
گذشتہ برس عورت
مارچ میں استعمال ہونے والے چند بینرز اور نعرے تنازعے کا باعث بنے جن میں سے ایک
نعرہ ’میرا جسم میری مرضی‘ بھی
تھا۔ اس برس عورت مارچ میں یہ نعرہ پھر نظر آ رہا ہے
پاکستان کے
دارالحکومت اسلام آباد میں عورت مارچ سے قبل جامعہ حفصہ کی طالبات، منہاج القرآن
ویمن لیگ اور دیگر خواتین کے گروہوں نے حیا مارچ کیا
حیا مارچ کی شرکا
خواتین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ’مجھے آزادی نہیں تحفظ چاہیے‘، ’جسم
بھی اللہ کا روح بھی اللہ کی اور ’حجاب میرا وقار‘ جیسے نعرے درج تھے
عورت مارچ میں
شریک ایک خاتون نے اپنے بینرر کے ذریعے معاشرے میں عورتوں کے احترام پر توجہ دلانے
کی کوشش کی ہے
واضح رہے کہ
مختلف شہروں کی انتظامیہ نے عورت مارچ کی اجازت دیتے ہوئے یہ شرط رکھی ہے کہ کسی
ایسے پوسٹر یا بینر کی اجازت نہیں ہو گی جو پاکستان کی معاشرتی اقدار کے خلاف ہے
https://syedwaqar3.blogspot.com/2020/03/blog-post.html


bus qyamatki nshania hai
ReplyDelete